سوات ( مدارنیوزٹی وی ) صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی ، زلزلہ زلزلے کی گہرائی 143 کلو میٹر تھی اور مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی علاقہ تھا ، زلزلے کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے تاہم زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
گزشتہ روز بھی ملک کے شمالی علاقوں مالاکنڈ ڈویژن، سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ، زلزلے کی شدت چار ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے شدید جھٹکوں سے شہری خوف وہراس میں مبتلا ہوگئے ، مالاکنڈ ڈویژن، سوات اور گردونواح کے علاقوں میں چار شدت کے زلزلے کے شدید جھٹکوں سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا، خوف میں مبتلا لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، عمارتوں سے باہر سڑک پر نکل آئے ، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4 ریکارڈ کی گئی ہے، زیرزمین زلزلے کی گہرائی 180 کلو میٹر اور زلزلے کی لہروں کا مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔

زلزلے ایسی قدرتی آفت ہیں، جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ، زلزلوں سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے ، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے ، زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں ، زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے ، زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔
دوسری جانب ڈائریکٹر پلاننگ (سٹیٹ ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن ایجنسی سیرا) نے پاکستان پرونشنل مینجمنٹ سروسز اکیڈمی پشاور میں زیرتربیت افسران کو تعمیرنو پروگرام کے بارے میں بتایا کہ 2005 کے زلزلہ کی قدرتی آفت کو 16برس بیت گئے ابھی تک 1154 تعلیمی اداروں کے تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلباء وطالبات کو سردو گرم موسم سے محفوظ چھت فراہم کرنا ہے ، تعمیرنو پروگرام کے تحت مرتب کیے گئے منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے 30 ارب روپے کے فنڈز درکار ہیں، آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ جانی ومالی نقصان شعبہ تعلیم میں ہوا جہاں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل کی شہادتوں کے دُکھ اور اربوں روپے کی گزشتہ نصف صدی کی تعمیرات ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں، اس خطہ کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ آزاد کشمیر مختلف اوقات میں قدرتی آفات آتی رہتی ہیں، آٹھ اکتوبر 2005ء کے شدید زلزلہ کی تباہی کے بعد زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لئے جاپان کے ماہرین نے جدید زلزلہ مزاحم تعمیرات کیلئے بلڈنگ کوڈز آٹھ ریکٹر اسکیل زلزلہ کومدنظررکھ کر مقررکئے تاکہ کسی بھی قدرتی سانحہ میں قیمتی انسانی جانوں اوراملاک کے نقصان کو کم کیا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here