اسلام آباد (مدارنیوزٹی وی) : وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔وزراء نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان سے الیکشن کمیشن سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی درخواست کر دی۔ذرائع کے مطابق وزراء نے وزیراعظم سے کہا کہ الیکشن کمیشن سے ٹکراؤ کے بجائے مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئیے۔
حکومت الیکشن کمیشن کے خلاف ہے۔ووٹنگ مشین اور اوور سیز کو ووٹ کا حق ہمارا کریڈٹ ہے۔اجلاس کے دوران وزراء نے وزیراعظم کو قائل کر لیا جس کے بعد وزیراعظم نے وزراء کی کمیٹی کو اہم ٹاسک دے دیا۔وزیراعظم نے مشیر خزانہ شوکت ترین کو ساڑھے 4 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دینے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سمیت متعدد بل منظور کر انے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

بل کی منظوری کے بعد عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور پاکستانی تارکین وطن کو ووٹ کا حق مل سکے گا۔بدھ کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ایک گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن نے شورشرابہ کیا ، اس دور ان مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل پر ووٹنگ مؤخر کرنے کی درخواست کی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بابر اعوان کو ایجنڈا نمبر ٹو یعنی الیکشن ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ کا بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی دعوت دی تو بابر اعوان نے جواب دیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی ہے، اس لیے اسے فی الحال مؤخر کردیا جائے اس دور ان اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ایوان میں بات کر نے کی اجازت دی ، اپوزیشن لیڈر کے جواب میں حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here