IMF

اسلام آباد(مدارنیوزٹی وی) معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد عوام کو اضافی ٹیکسیوں کے لیے تیار رہنا ہوگاماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت اس وقت ضروری تھی کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کسی ملک کے لیے فنانسنگ کی راہیں آئی ایم ایف پروگرام سے کھل جاتی ہیں.

انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف بجٹ خسارے کو کم اور اخراجات میں کمی لانے کے لیے کہتا وہ یہ نہیں کہتا کہ آپ فلاں فلاں ٹیکس لگا دو جب آپ خود کچھ نہیں کرتے تو پھر یہی ہوتا ہے کہ آپ کو کہا جاتا ہے کہ وہ مختلف اقدامات کرو جو آپ کو مجبوری میں کرنے پڑتے ہیں. ڈاکٹر صدیقی نے کہا جب ملک میں آنے والی ساری انکم کو ٹیکس نہیں کیا جائے گا اور توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھتے رہیں گے تو پھر لازمی طور پر آئی ایم ایف یہ شرائط رکھے گا کہ مختلف اقدامات کر کے بجٹ خسارہ کم کریں.
آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط میں عمومی طور پر ٹیکس بڑھانے اور نئے ٹیکس لگانا شامل ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مالیاتی ادارہ آپ کو قرض دیتا ہے تو سب سے پہلے وہ وصولی کا پلان طے کرتا ہے اور قرض کی اقساط کی وصولی کے پلان کے بعد حکومتوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ادارے کے دیئے گئے پلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے وصولی کے لیے اقدامات کریں.
آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بنک کوئی بھی ادارہ پاکستان جیسے ملک کو اقساط کی یقینی وصولی کے پلان پرعمل درآمد یقینی بنانے پر مجبور کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ قرضوں میں ڈوبے ملکوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کی معاشی پالیسیاں قرض دینے والے ادارو ں کے ماہرین بناتے ہیں اور اگر ہم پاکستان کی مثال کو سامنے رکھتے ہیں تو یہ سب کوپتہ ہے کہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بنک میں اہم عہدوں پر تقرریاں کیسے اور کن کی سفارش پر ہوتی ہیں.
پاکستان کا کیس بہت پچیدہ اور خطرناک ہوجاتا ہے اگر کسی ملک کے قرض اس کے مجموعی جی ڈی پی کے50فیصد سے اوپر ہوجائے تو اس ملک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک ان گورنرایبل ہوجاتا ہے یعنی کوئی اس ملک کو نہیں چلاسکتا انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف نے اقتدار چھوڑا تھا تو قرضوں کی شرح ملک کی مجموعی جی ڈی پی کا 78فیصد تھا جوکہ آج اب 82اعشاریہ3 ہوچکا ہے اس سے تباہی اور ملک کی خودمختاری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں شوکت ترین ہوں یا حکومت کا کوئی بھی وزیرمشیر اس نے زندگی میں کبھی ”فیلڈورک “کیا ہی نہیں اس لیے وہ گاڑیوں ‘موٹرسائیکلوں اور موبائل فونوں کی فروخت سے ملکی اقتصادیات کے اعشاریوں میں بہتری قراردیتے ہیں انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا سونامی روکنا حکومت کے بس سے باہر ہوچکا ہے. میاں محمد ندیم نے کہا کہ شوکت ترین کی جگہ کسی تحصیل دار کو وزارت خزانہ دیدی جائے تو وہ زیادہ بہتر کارکردگی دکھاسکتا ہے کیونکہ وہ فیلڈ میں ہے اسے کھیت کی پیدوار سے لے کر منڈی میں موجود اسٹاک کی مقدار اور ریٹس تک کا پتہ ہوتا ہے اس لیے منڈیوں میں بیٹھے بیوپاری اسے بیوقوف نہیں بناسکے سرکاری سمریاں پڑھ کر پریس کانفرنسیں کرنے والے ”بابو“کو زمینی حقائق کا پتہ ہی نہیں ہوتا اس لیے وہ گاڑیوں‘موٹرسائیکلوں اور موبائل فونوں کی فروخت کو معاشی ترقی قراردیتا ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here