لندن(مدارنیوزٹی وی ) کورونا وائرس کے خلاف برطانوی ویکسین ایسٹرا زینیکا بنانے والی کمپنی نے دعوی کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ اینٹی باڈی دوا ایسے افراد کو کووڈ 19 سے بیمار ہونے سے بچانے کے لیے بہت زیادہ موثر ہے جن کا مدافعتی نظام ویکسینز کے استعمال پر زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کرتا یہ بات کمپنی کی جانب سے جاری نئے کلینکل ٹرائل کے نتائج میں سامنے آئی ہے.
جن افراد کو اس دوا اے زی ڈی 7442 کے سنگل انجیکشن دیا گیا ان میں علامات والی بیماری کا امکان 83 فیصد تک کم ہوگیا اس سے قبل اکتوبر میں ٹرائل کے ابتدائی نتائج میں دریافت ہوا تھا کہ اس دوا کا استعمال کووڈ سے متاثر ہونے پر سنگین شدت کا خطرہ 77 فیصد تک کم کردیتا ہے. اس علاج کے استعمال کرنے والے فراد میں 6 ماہ کے دوران کووڈ 19 کی سنگین شدت یا موت کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اس کے مقابلے میں ٹرائل جن افراد کو پلیسبو کا استعمال کرایا گیا ان میں سے 5 میں کووڈ کی زیادہ شدت سامنے آئی تھی اور 2 ہلاک ہوگئے.
ٹرائل میں شامل 75 فیصد سے زیادہ افراد پہلے سے مختلف بیماریوں سے متاثر تھے جس کی وجہ سے ان میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے پر سنگین شدت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے ایسٹرا زینیکا کے مطابق دنیا کی 2 فیصد آبادی میں کووڈ ویکسینز کے حوالے سے درست ردعمل کا خطرہ بھی موجود ہوسکتا ہے، ان میں ڈائیلاسز کرانے والے، کیموتھراپی کے عمل سے گزرنے والے اور مدافعتی نظام کی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں یہ امکان زیادہ ہوتا ہے.
اس دوا کے تیسرے مرحلے کلے کلینکل ٹرائل 5 ممالک کے 87 مقامات پر ہوئے جس میں 5197 افراد کو شامل کیا گیا 3460 کو 300 ملی گرام اے زی ڈی 7442 اور 1737 کو پلیسبو کا استعمال کرایا گیا 6 ماہ تک جانچ پڑتال کی گئی اور 4991 رضاکاروں کے ڈیٹا کو ٹرائل میں شامل کیا گیا باقی کو اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ انہوں نے اس مدت میں کووڈ ویکسینیشن کرالی تھی اب رضاکاروں کا جائزہ 15 ماہ تک لیا جائے گا.
کووڈ کی معمولی سے معتدل سے متاثر مریضوں میں ایک الگ ٹرائل میں دریافت کیا گیا کہ علامات بننے کے 3 دن کے اندر اس دوا کی ایک خوراک دینے سے بیماری کی شدت سنگین ہونے کا خطرہ 88 فیصد تک گھٹ جاتا ہے 903 افراد کے اس ٹرائل میں شامل 50 فیصد رضاکاروں کو اے زی ڈی 7442 کی 600 ملی گرام مقدار کا استعمال کرایا گیا جبکہ باقی سب کو پلیسبو دیا گیا. اس ٹرائل میں شامل 90 فیصد افراد میں کووڈ کی شدت سنگین ہونے کا خطرہ زیادہ خیال کیا جارہا تھا ایسٹرا زینیکا نے بتایا کہ دونوں ٹرائلز کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دوا انسانی جسم آسانی سے برداشت کرلیتا ہے ٹرائل میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ان نتائج سے ہمیں یہ اعتماد ملا ہے کہ یہ اینٹی باڈی امتزاج زیادہ خطرے سے دوچار مریضوں کو طویل المعیاد تحفظ فراہم کرسکتا ہے اور وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں واپس لوٹ سکیں گے.
انہوں نے بتایا کہ اہم بات یہ ہے کہ کورونا کی قسم ڈیلٹا کے پھیلاﺅ کے باوجود 6 ماہ کا تحفظ ٹرائل میں شامل رضاکاروں میں بھی برقرار رہا جن میں بیماری کی شدت بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے. ایسٹرازینیکا کے بائیو فارماسیوٹیکلز ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے نائب صدر مینی پنگالوز نے بتایا کہ اے زی ڈی 7442 ابھی واحد اینٹی باڈی علاج ہے جس کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل میں ایک خوراک سے بیماری سے تحفظ اور علاج کی افادیت ثابت ہوئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم دنیا بھر میں ریگولیٹری اجازت کے لیے پیشرفت کررہے ہیں تاکہ کووڈ کے خلاف نئے آپشن کو جلد از جلد فراہم کیا جاسکے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here