اسلام آباد (مدارنیوزٹی وی) 2 سے 4 ہفتوں میں استبول، تہران، اسلام آباد فریٹ ٹرین شروع کرنے کا اعلان۔
وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی کی جانب سے پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان فریٹ ٹرین سروس کے آغاز کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا گیا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2 سے 4 ہفتوں میں استبول، تہران، اسلام آباد فریٹ ٹرین شروع کریں گے، کوئٹہ تا زاہدان فریٹ ٹرین بھی جلد چلے گی۔
پاکستان ریلوے کی حالت میں بہتری لانے کے حوالے سے اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ اگلے سال 230 مزید نئی ریل کی بوگیاں آجائیں گی۔ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ پینٹاگون دنیا چلا رہا ہے لیکن ہم ریلوے نہیں چلا سکتے، ٹرینوں میں اب پیزا اور لاہوری تکہ بھی ملے گا لیکن یہ سب ٹرینیں آوٹ سورس کرنے سے ہی ملے گا۔

بہت سی باتیں ایسی ہیں جو یہاں میڈیا کی بنا پر نہیں بتا سکتا۔

انرجی والوں سے بھی ایم ایل ون کے بارے میں بات کی ہے، ایم ایل ون کو ہر لیول پر اٹھایا، ہمارے ہاتھ بندھے ہیں،ہمارے ٹریک ٹوٹے ہوئے ہیں، کچھ پتا نہیں کب حادثہ ہوجائے،ایم ایل ون کے لیئے ہم پی سی ون جمع کرا چکے ہیں، بلوچستان کیلئے ٹرین چلانے جارہے ہیں۔ یکم دسمبر سے بولان ایکسپریس چلے گی، ہرنائی تا سبی ٹریک پر سیکیورٹی مسئلہ تھا ایف سی کی تعیناتی کے بعد اس پر کام جاری ہے۔
یہاں واضح رہے کہ پاکستان، ایران اور ترکی نے رواں سال کے آغاز میں اسلام آباد، تہران، استنبول کارگو ٹرین سروس کی بحالی کیلئے اتفاق کیا تھا۔ تینوں ممالک کے درمیان موجود ریلوے ٹریک پر متعدد ٹیسٹ رن کیے جا چکے جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ ٹریک کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ تاہم تینوں ممالک نے اتفاق کیا کہ کارگو ٹرین سروس کی بحالی کیلئے ایک دوسرے کے تعاون سے کام کیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد سے چلنے والی کارگو ٹرین 12 دن کا سفر طے کر کے ترکی کے شہر استنبول پہنچے گی۔ ٹرین اس دوران ساڑھے 6 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرے گی۔ اس کارگو ٹرین سروس کی بحالی سے پاکستان کیلئے زمینی راستے سے یورپ تک کی رسائی ممکن ہو جائے گی۔ جبکہ پاکستان کیلئے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی۔ اسلام آباد تا استنبول کارگو ٹرین سروس کی بحالی پاکستان کیلئے معاشی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ اس سروس کی بحالی سے پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here