نئی دہلی(مدارنیوزٹی وی ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے جن کے خلاف گذشتہ ایک سال سے ملک میں کسان احتجاج کر رہے تھے جبکہ یونائیٹڈ کسان مورچہ نے نریندر مودی کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاج فوری طور پر ختم نہیں کریں گے اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے اس اعلان پر عملدرآمد ہونے کا انتظار کریں گے.
کسانوں کی تحریک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھارت میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری کسانوں کی جدوجہد کی ایک تاریخی فتح ہوگی وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم سے خطاب میں متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ آج میں پورے ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اس مہینے کے اواخر میں شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں ہم ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا آئینی عمل مکمل کریں گے واضح رہے کہ بھارتی ریاستوں پنجاب، ہریانہ، ا±ترپردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسان ان متنازع قوانین کے خلاف گذشتہ ایک سال سے دارالحکومت نئی دہلی کے باہر احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے تھے.
کسانوں کا موقف تھا کہ انڈین حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات کے نام پر متعارف کروائے جانے والے ان قوانین کی منظوری کے بعد زراعت کے شعبے میں نجی سیکٹر کے افراد اور کمپنیوں کے داخلے کا راستہ کھل جائے گا جس سے ان کی آمدن متاثر ہو گی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان قوانین کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کسانوں بالخصوص چھوٹے کسانوں کی فلاح اور شعبہ زراعت کے مفاد میں دیہی علاقوں اور غریبوں کے بہتر مستقبل کے لیے پوری نیک نیتی کے ساتھ یہ قوانین لے کر آئی تھی.
کسانوں کے ایک راہنما یوگیندر یادو نے تینوں قوانین واپس لیے جانے کے فیصلے کو کسانوں کی تاریخی جیت قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ واضح ہے کہ کسانوں کو اس ملک میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘کسانوں کی نمائندہ تنظیم ”متحدہ کسان مورچہ“ نے وزیر اعظم مودی کے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاج فی الفور ختم نہیں کریں گے.
اپنے ایک تحریری بیان میں متحدہ کسان مورچہ نے کہا ہے کہ ان کا احتجاج صرف نئے زرعی قوانین کے حوالے سے نہیں تھا بلکہ حکومت سے فصلوں کی کم از کم قیمت کی قانونی ضمانت پر بھی بات کی گئی تھی جس کے حوالے سے فی الحال کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ہے نمائندہ تنظیم نے کہا کہ وہ پارلیمان سے ان قوانین کی باقاعدہ منسوخی تک احتجاج جاری رکھیں گے.
وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے ان قوانین کے خاتمے کو کسانوں کی تنظیمیں ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھ رہی ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے پیچھے اصل وجہ آنے والے دنوں میں پنجاب اور اتر پردیش کی ریاست میں ہونے والے انتخابات ہیں ان دونوں ریاستوں میں ان کسانوں کی بڑی تعداد ہے جو ان قوانین سے خوش نہیں اور بہت سے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اسی لیے اس موقع پر انڈین حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے.
مودی سرکار نے تین قوانین لگ بھگ ایک برس قبل متعارف کروائے تھے جن کے مطابق دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020 کے قانون کے مطابق کسان اے پی ایم سی یعنی ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مطلع شدہ منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر فروخت کر سکتے تھے. دوسرا قانون تھا فارمرز اگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020 (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن)۔

اس کے مطابق کسان کانٹرکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ کاشتکاری کر سکتے ہیں اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں جبکہ تیسرے قانون میں کہا گیا تھا سسینشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020۔ اس میں پیداوار، ذخیرہ کرنا، اناج، دال، کھانے کے تیل اور پیاز کو غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہر کر دیا گیا ہے.

کسانوں کا موقف رہا ہے کہ مودی سرکاران قوانین کے ذریعے کسانوں کو بڑی بڑی کارپوریشنزکے پاس گروی رکھنا چاہتی ہے کیونکہ کارپوریٹ فارمنگ سے چھوٹے کسان ختم ہوجائیں گے اور بڑی بڑی سرمایہ کار کمپنیاں جس طرح چاہیں گی مارکیٹ کو کنٹرول کریں گی.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here