اسلام آباد(مدارنیوزٹی وی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت نے عددی اکثریت کی بنیاد پر متنازع بل منظور کرائے تو پیپلزپارٹی عدالت سے رجوع کرے گی. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کو ریلیف دینے کے لیے متنازع بل لا رہی ہے اگر حکومت نے ریلیف دینا ہے تو پاکستان کے عوام کو دے بلاول بھٹو نے کہاکہ ہم حکومت کو اس ایوان کا استعمال کر کے کلبھوشن کو ریلیف دینے کی اجازت نہیں دیں گے.

قبل ازیں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد شروع ہو ا اجلاس کے دوران حکومت انتخابی اصلاحات سے متعلق بلوں سمیت دیگر بلوں کو منظور کرانے کی کوشش کرے گی اپوزیشن جماعتوں نے بھی قانونی سازی روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے. اجلاس کے ایجنڈے میں سرِ فہرست الیکشن ایکٹ ترمیمی بل اور سمندر پار پاکستانیوں کے انٹرنیٹ ووٹنگ سے متعلق بلز ہیں اسپیکر اسد قیصر کی اجازت سے قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت اور حکومت کی جانب سے لائے جانے والے قوانین پر شدید تنقید کی.
شہباز شریف نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کالے قوانین منظور کرانا چاہتی ہے اگر آج آپ نے انہیں منظور ہونے دیا تو پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کی ذمے داری حکومت اور اسپیکر پر ہو گی اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اجلاس کو موخر کر دیں اور حکومت کی جانب سے لائے جانے والے قانونی بلوں پر مشاورت کریں.
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس کے بعد کسی کو انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے کا موقع نہ ملے انہوں نے کہاکہ ہم کالا قانون مسلط نہیں کرنا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک صاف کرنا چاہتے ہیں اور اگر ہمارے پاس عددی اکثریت نہ ہوتی تو پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بلاتے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) ایول ڈیزائن کا راستہ روکنے کے لیے لائی جا رہی ہے.
ا±نہوں نے کہا کہ اگر حزبِ اختلاف چاہتی ہے کہ ووٹ کو چوری ہونے سے بچانا ہے تو مجوزہ بلز کی حمایت کرے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر سے قبل اسپیکر اسد قیصر اور پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی عبدالقادر مندوخیل کے درمیان تلخی کلامی ہوئی جس پر اسپیکر نے ا±نہیں تنبیہ کی کہ میں آپ کو ایوان سے باہر نکلوا دوں گا اسپیکر نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کو بات کرنے کا موقع دے رہا ہوں لیکن پھر بھی آپ بدتمیزی کیوں کر رہے ہیں.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here