اسلام آباد(مدارنیوزٹی وی) رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے ‘ ملکی مفاد اور امن و استحکام کی خاطر حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان کردار ادا کرنے کی پیشکش قبول کی تھی. برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے بتایا کہ انہیں حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل حکومتی وزرا دھمکیاں دے رہے تھے کہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا اور ان کا خاتمہ کر دیں گے.

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ساتھ کسی صورت بیٹھنے کو تیار نہیں تھے جنہوں نے معاملات بگاڑے، وعدوں سے انحراف کیا، ان کا کوئی اعتبار نہیں انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ آرمی چیف کا رویہ مثبت تھا اور وہ مسئلے کو احسن طریقے سے حل کرنا چاہتے تھے.
میں نے آرمی چیف سے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو پیش نظر رکھنا چاہیے جب لال مسجد کا آپریشن ہو رہا تھا تو رات 12 بجے تک تمام لبرلز حکومت کو ملامت کر رہے تھے کہ حکومت کی رٹ کہاں ہے، حکومت طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہی مگر جب آپریشن ہوا تو صبح یہی سب حکومت کے مخالف صف میں کھڑے تھے. فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کے مطالبے کے حوالے سے سوال کے جواب میں مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ہم اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہو رہے بلکہ میڈیا اس حوالے سے ہماری باتوں کی غلط تشریح کر رہا ہے‘ فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کا معاہدہ حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا جس کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر تصادم ہوا.
مفتی منیب الرحمان اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی مداخلت سے بالآخر گذشتہ دنوں تحریک لبیک پاکستان نے وزیر آباد کے مقام پر اپنا احتجاج موخر کرتے ہوئے مصروف ترین جی ٹی روڈ ٹریفک کے لیے کھول دی تھی مذاکرات کی کامیابی کے بعد اسلام آباد میں حکومتی اور تحریک لبیک کی مذاکراتی ٹیموں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مفتی منیب الرحمان نے کہا تھا کہ وہ کمیٹی کو اختیارات دینے پر وزیر اعظم عمران خان کے مشکور ہیں.
یہ معاہدہ کسی کی فتح یا شکست نہیں بلکہ یہ پاکستان، اسلام اور انسانی جانوں کی حرمت کی فتح ہے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے آئیں گی اور آئندہ ہفتے معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے معاہدے کے نتیجے میں وزیر مملکت علی محمد خان کی سربراہی میں ایک سٹیرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے. انہوں نے بتایا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا ہے اور حکومت نے اس مطالبے کو تسلیم کیا ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں بیان پر مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ صرف الزام ہے اور ٹی ایل پی پاکستان اور اس کے آئین کی وفادار جماعت ہے فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے حق میں بھارت سے ٹویٹس ہو رہی تھیں.
مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ کسی پاکستانی کو غدار کہنا سب سے بڑی گالی ہے اور اسی وجہ سے فواد چوہدری کو کوئی پسند نہیں کرتا مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت میں ایک وزیر ایک بات کرتا ہے تو دوسرا وزیر دوسری بات کرتا ہے اگر حکومت کی کوئی پالیسی ہے تو جسے وہ ہضم نہیں ہو رہی اس کو چپ کرا دے. تحریک انصاف کی حکومت نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی گذشتہ برس دسمبر میں تشکیل نو کرتے ہوئے ایک طویل عرصے تک رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ رہنے والے مفتی منیب الرحمان کو ہٹا دیا تھا ان کی رویت سے متعلق کئی فیصلے متنازعے رہے تھے لیکن وہ اس عہدے پر قائم رہے انہیں تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات میں بھی شامل کیا گیا ہے.
ایک سوال کے جواب میں کہ تحریک انصاف اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان سیاسی اتحاد کی باتیں چل رہی ہیں تو اس پر جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن الائنس کی باتیں کرنے والے اور ٹی ایل پی جانیں، یہ میرے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے، میرے ایجنڈے کا حصہ امن، سلامتی ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here