کورونا وائرس کے خاتمے میں دو سال لگ سکتے ہیں. عالمی ادارہ صحت

0
79

جنیوا(مدار ٹی وی) عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمے میں دو سال لگیں گے‘ جنیوا میں خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ادھانوم نے کہا کہ 1918 میں ہسپانوی فلو کی وبا پر قابو پانے میں دو برس لگے تھے. انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترقی اس وائرس کو کم وقت میں روکنے میں مدد دے سکتی ہے انہوں نے کہایقیناً زیادہ میل ملاپ سے اس وائرس کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہے لیکن اس وقت ہمارے پاس اس کو روکنے کی ٹیکنالوجی اور علم موجود ہے.
انہوں نے اس موقع پر عالمی اتحاد کی اہمیت پر زور دیاواضح رہے کہ 1918 میں پھیلنے والے جان لیوا ہسپانوی فلو سے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک تقریباً 8 لاکھ افراد ہلاک جبکہ دو کروڑ 27 لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ڈاکٹر ٹیدروس نے وبا کے دوران ذاتی حفاظتی سامان کے حوالے سے کی جانے والی کرپشن کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے اسے”مجرمانہ فعل‘ ‘قرار دیا.
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا تاہم میرے نزدیک ذاتی حفاظتی کٹس یا سامان کے حوالے سے کرپشن کرنا درحقیقت ایک قتل ہے کیونکہ اگر صحت کا عملہ بنا ذاتی حفاظتی کٹس کے کام کرے گا تو ہم ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ساتھ ہی ان افراد کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں جن کا یہ علاج کرتے ہیں. اگرچہ جنوبی افریقہ میں بدعنوانی کے الزامات سے متعلق سوال ہیں مگر بہت سے ممالک میں اسی نوعیت کے مسائل سامنے آ رہے ہیںگزشتہ روز کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں وبائی بیماری کے دوران مبینہ کرپشن کےخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ شہر کے متعدد سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نے بلا معاوضہ اجرت اور حفاظتی سامان کی کمی کی وجہ سے ہڑتال کی.
اسی دن عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی پروگراموں کے سربراہ نے متنبہ کیا کہ میکسیکو میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کی صورتحال کا واضح طور پر کم اندازہ لگایا گیا ہے‘ڈاکٹر مائیک ریان نے کہا کہ میکسیکو میں ایک لاکھ میں سے صرف تین افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں یہ شرح ایک لاکھ افراد میں 150 افراد کے ٹیسٹ کی ہے.
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق میکسیکو میں کورونا کے باعث 60 ہزار اموات ہوئی ہیں جو کہ دنیا میں تیسری سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں دوسری جانب امریکہ میں صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک میں وبا کی صورتحال سے نمٹنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے. ان کا کہنا ہے کہ ہمارے موجودہ صدر قوم کی جانب اپنے بنیادی فرض کی ادائیگی میں ناکام ہو گئے ہیں، وہ ہماری حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، وہ امریکہ کی حفاظت کرنے میں نا کام ہو گئے ہیں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر وہ صدر بنے تو ملک میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیں گے.
ادھر امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث ایک ہزار سے زائد نئی اموات کی تصدیق کی گئی جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 173490 ہو گئی ہے گزشتہ روز متعدد ممالک نے کورونا کے سب سے زیادہ کیسز کی تصدیق کی ہے جن میں جنوبی کوریا میں مارچ کے بعد سے اب ایک ہی دن میں 324 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی. گذشتہ انفیکشنز کی طرح اس بار بھی یہ کیسز گرجا گھروں، عجائب گھروں، نائٹ کلبز اور بارز سے سامنے آئے ہیں جن کے بعد ان مقامات کو بند کر دیا گیا ہے متعدد یورپی ممالک میں بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.
پولینڈ اور سلوواکیہ دونوں نے جمعہ کو نئے متاثرین کی تصدیق کی ہے جن میں بالترتیب 903 اور 123 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ سپین اور فرانس میں بھی حالیہ دنوں میں کورونا کیسز کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے لبنان میں دو ہفتوں کا جزوی لاک ڈاﺅن نافذ کر دیا گیا ہے، جس میں رات کے وقت کا کرفیو بھی شامل ہے ملک میں اس وبا کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ متاثرین سامنے آنے کے بعد یہ لاک ڈاﺅن نافذ العمل ہوا ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here